خدا -ناخدا

جو جان ہے موسم کی اب جانے کہاں ہے وہ

پانی تو برستا ہے برسات نہیں ہوتی

نامعلوم

کیا ناخدا بغیر کوئی ڈوبتا نہیں

مجھ کو مرے خدا سے پشیماں نہ کیجئے

جگر

بندے نہ ہوں گے جتنے خدا ہیں خدائی میں

کس کس خدا کے سامنے سجدہ کرے کوئی

یگانہ چنگیزی

خدا تو اک طرف ، خدا سے بھی کوسوں دور ہوتا ہے

بشر جس وقت طاقت کے نشہ میں چور ہوتا ہے

میلا رام وفا

ہم خدا کے کبھی قائل ہی نے تھے

اس کو دیکھا تو خدا یاد آیا

میر

جس نے مرے ہوش ربا کو نہیں دیکھا

اس دیکھنے والے نے خدا کو نہیں دیکھا

داغ دہلوی

خدا کی قسم اس نے کھائی جو آج

قسم ہے خدا کی مزہ آ گیا

داغ دہلوی

غم و خوشی میں ہمیشہ خدا جو یاد رہے

تو گھر کے کانٹوں میں بھی ، انسان دل سے شاد رہے

اشوک ساہنی