نگاہ-نظر-چشم

بہت اوروں میں پہلے عیب ڈھونڈھے

ہوئے شرمندہ جب خود پر نظر کی

ساحر بھوپالی

سمجھ سکو تو سمجھ لو مری نگاہوں سے

کہ دل کی بات زباں سے کہی نہیں جاتی

دانش

اس روز الٰہی! تو اٹھانا مجھ کو

جس روز میں اپنی ہی نظر سے گر جاؤں

سوز

تو اے نگاہِ ناز! کہاں لے گئی مجھے

میری نظر بھی اب مجھے پہچانتی نہیں

شاد عظیم آبادی

دیکھا ہے کس نگاہ سے تو نے ، ستم ظریف

محسوس ہو رہا ہے میں ، غرقِ شراب ہوں

عدم

اٹھتی نہیں نگاہ ، مگر ان کے روبرو

نادیدہ اک گناہ کئے جا رہا ہوں میں

جگر

اتنی ہی نگاہوں کی مری پیاس بڑھی ہے

جتنی کہ تجھے دیکھ کے تسکین ہوئی ہے

اشرف رفیع

شاید ترے کلام سے ملتا نہ یہ سکوں

مجھ کو تری نگاہ نے خوشحال کر دیا

اشوک ساہنی