تمنا-آرزو-خواہش

جو تمنا بر نہ آئے عمر بھر

عمر بھر اس کی تمنا کیجئے

مرزا غالب

تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر

سرفروشی کی تمنا ہے تو سر پیدا کر

امیر مینائی

غمِ حیات نے آوارہ کر دیا ورنہ

تھی یہ آرزو کہ تیرے در پہ صبح و شام کریں

مجروح

یہ اپنے اپنے ظرفِ تمنا کی بات ہے

ورنہ چمن قریب تھا ، ویرانہ گھر سے دور

آغا شاعر

مرنے کی آرزو مجھے مدت سے تھی مگر

لیکن یہ کام ہو نہیں سکتا جئے بغیر

نامعلوم

تجھ کو پانے کی تمنا دل ہی دل میں رہ گئی

سوچتا ہوں زندگی ، یہ وار کیسے سہہ گئی

اشوک ساہنی