تصور-خیال

دامن کسی کا ہاتھ سے جاتا رہا مگر

اک رشتۂ خیال ہے ، جو ٹوٹتا نہیں

وشواناتھ درد

حیراں ہوئے نہ تھے جو ، تصور میں بھی کبھی

تصویر ہو گئے ، تری تصویر دیکھ کر

فراق

یوں تو رہتی ہے تصور میں تمہاری صورت

پھر بھی مل جاؤ تو تسکین سی ہو جاتی ہے

نامعلوم

تصور میں ہی آ جاتے تمہارا کیا بگڑ جاتا

تمہارا پاس رہ جاتا ، ہمیں دیدار ہو جاتا

نامعلوم

دل ڈھونڈھتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن

بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کئے ہوئے

میر

جب تصور میں بھی تم مرے ساتھ ہو

میری خلوت میں آؤ ، تو کیا بات ہو!

اشوک ساہنی