امید-توقع-آس

منحصر ہو جس کی مرنے پر امید

ناامیدی اس کی دیکھا چاہئے

مرزا غالب

کوئی صورت نظر نہیں آتی

کوئی امید بر نہیں آتی

مرزا غالب

کچھ کٹی ہمتِ سوال میں عمر

کچھ امیدِ جواب میں گزری

فانی

جہاں میں جن کی امیدوں کے بیڑے پار ہوتے ہیں

جہاں میں ایسے انساں تو فقط دو چار ہوتے ہیں

نامعلوم

ساری امید رہی جاتی ہے

ہائے پھر صبح ہوئی جاتی ہے

بسمل عظیم آبادی

چاہے ہر سو ہو مسلط شبِ ظلمت پھر بھی

ہم کو کرنی ہے اجالوں کی حفاظت پھر بھی

اشوک ساہنی