منزل-کارواں-قافلہ

راہ روکے ہوئے خود راہ نما بیٹھے ہیں

اب کوئی قافلہ گزرے تو کدھر سے گزرے

حفیظ میرٹھی

کارواں کو کس نے لوٹا ، یہ خدا جانے مگر

راہ میں نقشِ قدم ، رہبر کے پہچانے گئے

احمد بخش رحمانی

جب سفر بےسمت ہو جائے ، تو پھر ،منزل کہاں

کھونے والے نے کبھی ، اس راز کو پایا نہیں

نامعلوم

کیا شکایت منزلِ مقصود ، مل جانے کے بعد

رہبروں کا ساتھ جیسا بھی رہا اچھا رہا

اقبال آذر

اب اہلِ کارواں پہ لگاتا ہے تہمتیں

وہ ہم سفر جو حیلہ بہانے میں رہ گیا

حفیظ میرٹھی

منزلوں نے جب پکارا ، بےمہابا چل پڑے

ہم نے راہِ شوق میں زادِ سفر رکھا نہیں

راشد حامدی

آج کے انساں بھی یاروں ، کس قدر معصوم ہیں

چابیوں سے چل رہے ہیں ، منزلیں معدوم ہیں

اشوک ساہنی