عدم

عدم

تخلص عدم

    پیدائش :
    پیدائش کی جگہ :

عدم کی غزلیں

عدم کا تعارف

عدم کے اشعار

  • انسانیت کی بات تو اتنی ہے شیخ جی

    بدقسمتی سے آپ بھی انسان بن گئے

    انسان-انسانیت-بشر
  • شاید مجھے نکال کر ، پچھتا رہے ہوں آپ

    محفل میں اس خیال سے ، پھر آ گیا ہوں میں

    بزم-محفل-انجمن
  • آئے بھی لوگ ، بیٹھے بھی ، اٹھ کر چلے گئے

    میں جا ہی ڈھونڈھتا ، تری محفل میں رہ گیا

    بزم-محفل-انجمن
  • بڑے نادان تھے ، وہ چند آنسو

    جو اتنی سادگی سے ، بہہ گئے ہیں

    اشک-آنسو
  • دل ابھی پوری طرح ٹوٹا نہیں

    دوستوں کی مہربانی چاہئے

    دوست دشمن
  • جس کو کہتے ہیں ، دوستوں کا خلوص

    وہ ستم ، بےحساب دیکھے ہیں

    دوست دشمن
  • ذرا اک تبسم کی ، تکلیف کرنا

    کہ گلزار میں ، پھول مرجھا رہے ہیں

    پھول اور کانٹے
  • شبنم کی ایک بوند تھی ، پھولوں کی کائنات

    وہ بھی نہ بچ سکی ، ہوسِ آفتاب سے

    پھول اور کانٹے
  • کتنے عروج پہ بھی ہو ، موسم بہار کا

    ہے پھول بس وہی ، جو سرِ زلفِ یار ہو

    پھول اور کانٹے
  • دیکھ کر چنئے گا ، گل ہائے مراد

    تاک میں ہوتے ہیں ، اکثر خار بھی

    پھول اور کانٹے
  • بہت مشکل ہے دنیا کا سنورنا

    تری زلفوں کا پیچ و خم نہیں ہے

    دنیا-کائنات-جہاں
  • محسوس یہ ہوا ترے دامن کو تھام کر

    جیسے کہ ہاتھ میں نے دو عالم پہ رکھ دیا

    دنیا-کائنات-جہاں
  • کتنا موزوں گناہ کرتے ہیں

    ہم تری سادگی پہ مرتے ہیں

    گناہ-گنہ گار-بےگناہ
  • کون انگڑائی ، لے رہا ہے عدمؔ

    دو جہاں لڑکھڑائے جاتے ہیں

    انگڑائی
  • دیکھا ہے کس نگاہ سے تو نے ، ستم ظریف

    محسوس ہو رہا ہے میں ، غرقِ شراب ہوں

    نگاہ-نظر-چشم
  • مرنے والے تو خیر ہیں بےبس

    جینے والے کمال کرتے ہیں

    موت-ازل-قضا
  • دل ابھی پوری طرح ٹوٹا نہیں

    دوستوں کی مہربانی چاہئے

    دل
  • دلِ ناکام ہی تم نے دیا تھا

    دلِ ناکام لے کر جی رہے ہیں

    دل
  • دل کے معاملات میں ، سود و زیاں کی بات

    ایسے ہیں جیسے موسم گل میں ، خزاں کی بات

    بہار-و-خزاں
  • وہ چشمِ مست کتنی ، خبردار تھی عدمؔ

    خود ہوش میں رہی ، ہمیں بدنام کر دیا

    آنکھ
  • تیری آنکھیں بھی مانگتی ہیں شراب

    میکدے خود بھی جام پیتے ہیں

    آنکھ
  • خیال ہی نہیں آیا نہ آنے کا ترے

    کچھ اس خلوص سے ہم محوِ انتظار رہے

    انتظار-منتظر
  • جنابِ شیخ یہ کیا ماجرا ہوا آخر

    سنا ہے آپ کو کعبہ میں بھی ، خدا نہ ملا

    کعبہ-بت-بت کدہ-بت خانہ
  • ہم تو راضی نہیں تھے مرنے پر

    غمگساروں نے مار ڈالا ہے

    غمگسار-غمخوار
  • انسانیت کی بات تو اتنی ہے شیخ جی!

    بدقسمتی سے آپ بھی انسان بن گئے

    شیخ و برہمن
  • زبانِ ہوش سے یہ کفر سرزد ہو نہیں سکتا

    میں کیسے بن پیے لے لوں ، خدا کا نام ہے ساقی

    ساقی
  • غرورِ مے کشی کی ، کون سی ، منزل ہے یہ ساقی

    کھنک ساغر کی ، آوازِ خدا معلوم ہوتی ہے

    ساقی
  • تیری آنکھیں بھی مانگتی ہیں شراب

    میکدے خود بھی جام پیتے ہیں

    میرے پسندیدہ اشعار
  • طلوعِ حشر کا کیا اعتبار ہے پیارے

    دراز ہو تو شبِ انتظار ہے پیارے

    میرے پسندیدہ اشعار
  • اس سے بڑھ کر دوست کوئی دوسرا ہوتا نہیں

    سب جدا ہو جائیں لیکن غم جدا ہوتا نہیں

    میرے پسندیدہ اشعار
  • ہے قیامت بھی ایک شے لیکن

    تیری انگڑائی جیت جائے گی

    میرے پسندیدہ اشعار
  • گئے ہیں ہم بھی گلستاں میں بارہا لیکن

    کبھی خزاں سے پہلے کبھی بہار کے بعد

    میرے پسندیدہ اشعار
  • منجدھار تک پہنچنا تو ہمت کی بات تھی

    ساحل کے آس پاس ہی طوفان بن گئے

    میرے پسندیدہ اشعار
  • اے ناخدا! سفینہ کا اب کوئی غم نہ کر

    ہم فرض کر چکے ہیں کہ ساحل نہیں رہا

    میرے پسندیدہ اشعار
  • مرنے والے تو خیر بے بس ہیں

    جینے والے ، کمال کرتے ہیں

    زندگی-زیست-حیات
  • گناہِ زندگی کرنے کی خاطر

    بسا اوقات مر جانا پڑا ہے

    زندگی-زیست-حیات
  • آ جاؤ اور بھی ، ذرا نزدیک جانِ من!

    تم کو قریب پا کے ، بہت خوش ہے زندگی

    زندگی-زیست-حیات
  • دل خوش ہوا ہے مسجدِ ویراں کو دیکھ کر

    میری طرح خدا کا بھی خانہ خراب ہے

    خدا -ناخدا
  • ہر موج ناخدا بنی ، بےچارگی کے بعد

    کشتی کے ڈوبتے ہی ، سہارے نکل پڑے

    خدا -ناخدا
  • زبانِ ہوش سے یہ کفر ، سرزد ہو نہیں سکتا

    میں کیسے بن پئے لے لوں ، خدا کا نام ہیں ساقی

    خدا -ناخدا
  • جس دن یہ ہاتھ پھیلے ، اہلِ کرم کے آگے

    اے کاش اس سے پہلے ہم کو خدا اٹھا لے

    خدا -ناخدا
  • کیسی مہلک خطا ہوئی ہم سے

    ناؤ میں ناخدا سے لڑ بیٹھے

    خدا -ناخدا
  • صرف اک قدم اٹھا تھا ، غلط راہِ شوق میں

    منزل تمام عمر ، مجھے ڈھونڈھتی رہی

    منزل-کارواں-قافلہ
  • ذکر کرتے ہوئے ان آنکھوں کا

    ہم چلے آئے میخانہ تک

    آنکھ-چشم
  • فضائے بندگی لاانتہا ، معلوم ہوتی ہے

    کہ مجھ کو ہر حسیں صورت ، خدا معلوم ہوتی ہے

    عبادت-بندگی