عرش ملسیانی

عرش ملسیانی

تخلص عرش ملسیانی

    پیدائش :
    پیدائش کی جگہ :

عرش ملسیانی کی غزلیں

عرش ملسیانی کا تعارف

عرش ملسیانی کے اشعار

  • داغِ دل سے بھی ، روشنی نہ ملی

    یہ دیا بھی ، جلا کے دیکھ لیا

    اندھیرے-اجالے-روشنی
  • اشکوں سے سلگتی ہوئی ، امید کو دیکھو

    پانی سے اگر گھر کوئی ، جلتے نہیں دیکھا

    اشک-آنسو
  • احبا ب کی یہ ، شانِ شریفانہ سلامت

    دشمن کو بھی یوں ، زہر اگلتے نہیں دیکھا

    دوست دشمن
  • خزاں جو آئی تو ، سمجھا بہار کی آمد

    مری نگاہ سے ، پھولوں کی تازگی نہ گئی

    پھول اور کانٹے
  • وہ حرم میں ہے اور نہ دیر میں ہے

    ہم تو دونوں جگہ پکار آئے

    دیر و حرم (مندر-مسجد)
  • بیتابیاں بجا مرے ، ذوقِ سجود کی

    لیکن اس آستانہ کے لائق ، یہ سر کہاں

    در-دیوار-آستاں
  • پھر فصلِ بہاراں میں آباد ہوئے گلشن

    میرے دلِ ویراں پر حسرت سی برستی ہے

    حسرت و ارماں
  • فریادِ غم سے عرشؔ ، سنبھلتا ہے دل مگر

    لیتے ہیں اہلِ دل یہ سہارا کبھی کبھی

    دل
  • کیوں لوگ ہوا باندھتے ہیں ، ہمتِ دل کی

    ہم نے تو اسے گر کے سنبھلتے نہیں دیکھا

    دل
  • دل ہے لیکن دل میں کوئی غم نہیں

    یہ مصیبت بھی تو آخر کم نہیں

    دل
  • وہ دل جو تھا ، امید و تمنا کا سہارا

    گرتی ہوئی دیوار ہے ، معلوم نہیں کیوں

    دل
  • تمنا ڈھونڈھتی پھرتی ہے جس کو

    مرے پہلو میں اب وہ دل کہاں ہے

    دل
  • میرے دل کی نےرنگی ، پوچھتے ہو کیا مجھ سے

    تم نہیں تو ویرانہ ، تم رہو تو بستی ہے

    صحرا-ویرانہ-بیاباں
  • جس تمنا پر شباب ، آیا اسے موت آ گئی

    زندگی بھی زندگی کے ، نام سے شرما گئی

    زندگی-زیست-حیات
  • مار ڈالا عرشؔ یوں تو ، دوستوں کے قرب نے

    یہ غنیمت ہے کہ آخر ، زندگی کام آ گئی

    زندگی-زیست-حیات
  • کتنا فریب کار ہے ، احساسِ بندگی

    ہم منزلِ خودی سے ، بہت دور آ گئے

    عبادت-بندگی