شکیل بدایونی

شکیل بدایونی

تخلص شکیل بدایونی

    پیدائش :
    پیدائش کی جگہ :

شکیل بدایونی کا تعارف

شکیل بدایونی کے اشعار

  • ہر تبسم پر ترے ، بڑھتی گئی دل کی خلش

    فصلِ گل بھی آئی ، لیکن پھول خاروں میں رہا

    پھول اور کانٹے
  • غمِ عمرِ مختصر سے ابھی ، بےخبر ہیں کلیاں

    نہ چمن میں پھینک دینا ، کسی پھول کو مسل کر

    پھول اور کانٹے
  • اسیرِ پنجۂ عہدِ شباب ، کر کے مجھے

    کہاں گیا میرا بچپن خراب کرکے مجھے

    شباب و پیری
  • اس کثرتِ غم پر بھی مجھے حسرتِ غم ہے

    جو بھر کے چھلک جائے وہ پیمانہ نہیں ہوں

    حسرت و ارماں
  • ترکِ مے ہی سمجھ اسے ناسح

    اتنی پی ہے کہ پی نہیں جاتی

    مے-شراب-مینا