پھول اور کانٹے

گل سے لپٹی ہوئی تتلی کو ، گرا کر دیکھو

آندھیو! تم نے درختوں کو گرایا ہوگا

قیصرالجعفری

وہ شاخِ گل پہ رہیں ، یا کسی کی میت پر

چمن کے پھول بھی ، عادی ہیں مسکرانے کے

قدیر

وہ پھول نہیں ، حاصلِ رنگینیئ گلشن

جس پھول کے پہلو میں ، کوئی خار نہیں ہے

انجم

ان گلوں سے تو ، کانٹیں ہی اچھے

جن سے ہوتی ہو ، توہینِ چمن

انجم

ہائے وہ کلیاں کھلی تھیں ، جو بڑی مدت کے بعد

ایک جھونکے میں ہوا کے ، سب پریشاں ہوں گئیں

شمیم جےپوری

دانشؔ ہم اہلِ غم نے ، انہیں دل میں رکھ لیا

جو خشک پھول ، لائقِ دستار بھی نہ تھے

دانش

جس شاخ نے آغوش میں ، کلیوں کو کھلایا

اس شاخ نے پھولوں کے ، جنازے بھی اٹھائے

حفیظ میرٹھی

ہم لگا لیتے ہیں ، کانٹوں کو بھی دل سے اپنے

لوگ بےرحم ہیں ، پھولوں کو بھی مسل دیتے ہیں

اشوک ساہنی