میرے پسندیدہ اشعار

مانگا کریں گے اب سے دعا ہجرِ یار کی

آخر تو دشمنی ہے دعا کو اثر کے ساتھ

مومن

وہ گزرے دوا سے تو ، بھروسہ پہ دعا کے

در گزریں دعا سے بھی ، دعا ہے یہ خدا سے

حالی

ہوتی نہیں قبول دعا ترکِ عشق کی

دل چاہتا نہ ہو تو زباں میں اثر کہاں

حالی

سب کچھ خدا سے مانگ لیا تم کو مانگ کر

اب کیا اٹھیں گے ہاتھ مرے اس دعا کے بعد

آغا حشر

مصیبت اور لمبی زندگانی

بزرگوں کی دعا نے مار ڈالا

مضطر خیرآبادی

آخر کوئی امیدِ اثر ہو دعا کے بعد

کچھ آپ بھی کہیں گے مری التجا کے بعد

بیدم وارثی

دعائیں دے مرے بعد آنے والے مری وحشت کو

بہت کانٹیں نکل آئے مرے ہمراہ منزل سے

ثاقب

باقی مرے حصہ میں اب دو ہی یہ باتیں ہیں

جینے کی دعا دینا مرنے کی دعا کرنا

جوش ملیح آبادی